ہم پاکستانی ہیں - Urdu column

ہم پاکستانی ہیں




محمد امانت اللہ



میں آفس میں بیٹھا ہوا تھا ہمارے بوس کا میسج آیا آج شام ہنگامی میٹنگ ہے۔ ہمارے ایم ۔ڈی صاحب وقت کی پابندی کا بہت خیال کرتے ہیں اس لیے میٹنگ وقت مقررہ پر شروع ہو گئ ۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کمپنی ایک اور فیکٹری بنگلا دیش میں لگائے گی۔ 

اس سلسلے میں میرا نام بھی تجویز کیا گیا ۔ میں بڑی کشمکش میں جائوں یا نہ جائوں ۔ انسان کی فطرت میں ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے بچپن اور جوانی کے ایام گزارے ہوتے ہیں اس جگہ سے ایک انسیت ہوتی ہے۔ 
مگر ذہن میں وہ انمنٹ نقوش تھے جن کو یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسو روتا ہے۔ 
ہمارے والد تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے مشرقی پاکستان آگئے ہجرت کے دوران آٹھ بہن بھائیوں میں سے وہ اکیلے بچے تھے ۔
ایک طویل عرصے کی محنت کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا اور کاروبار نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی ۔ میں نے ابتدائی تعلیم بنگلا میڈیم میں حاصل کی ۔ یونیورسٹی میں تعلیم انگلش میں دی جاتی تھی۔ ہمیں بنگالی زبان پر عبور حاصل تھا ۔
ہم نے محسوس کیا چند اساتذہ مغربی پاکستان کی زیادتیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جب ہم اس پر غور کرتے تو ہمیں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا تھا ۔ درحقیقت ہمارے ذہنوں میں نفرت بھری جا رہی تھی ۔ یہ حقیقت ہے جس قوم کو تباہ و برباد کرنا مقصود ہو وہاں کے تعلیمی نصاب میں اپنی مرضی کی تبدیلی لے آئیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو اساتذہ آپکی مرضی کا ذہر طالب علموں کے ذہنوں میں گھولتے رہیں ۔ افسوس ہم نے ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا آج سندھ اور خاص کر بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں وہی کھیل دہرا یاجارہا یے جو ڈھاکا یونیورسٹی میں کھیلا گیا تھا ۔ 
ہم یونیورسٹی کے پہلے ہی سال میں تھے ملکی حالات بڑی تیزی سے خراب ہوتے ہوئےنظر آنے لگے ۔
ہم میں سےکون اسکا ذمہ دار ہے میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا مگر کچھ سوالات آج بھی ایسے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں گھوم رہے ہیں ۔
جرنل ٹکا خان کا مشہور جملہ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں " ہمیں زمین چاہیے " 
مگر کسی نے بنگالیوں کے احساس محرومی کا مداوا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہماری بیروکریسی یہ تاثر دیا کرتی تھی ۔
بنگالیوں کو فوج اور کھیل میں خاص کرکٹ میں اس لیے نہیں لیتے انکے قد کم ہیں ۔ 
حکومتی اداروں میں انکی تعداد اس لیے کم ہے کہ انکی پرسنلٹی وہ نہیں ہے جو مغربی پاکستان کے لوگوں میں ہے ۔۔
آج تاریخ نے ثابت کردیا انکی پرسنلٹی کسی سے کم نہیں کیوںکہ انسان کا خالق اللہ تعالٰی ہے ۔
انکی کرکٹ ٹیم نے ہماری ٹیم کو شکست دے کر ثابت کر دیا ہے قد کم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انکی خارجہ اور معاشی پالیسیاں ہم سے بہتر ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا انکی فارن کرنسی ہم سے زیادہ مضبوط ہے ۔
سعودی عرب میں کام کرتے ہوئے ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے میں حیران ہوتا ہوں بنگلا دیش سے %99 لیبر کیٹیگری میں لوگ آتے ہیں ۔ اسکا مطلب ہے انکے ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی کھپت اپنے ہی ملک میں ہوجاتی ہے ۔ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے ہمارے ملک میں خاص طور سے پڑھے لکھے لوگوں کی ایک کثیر تعداد بےروزگاری کی چکی میں پس رہی ہے جسکی وجہ کر بیرون ملک کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔
ہمارے ملک کی اقتصادی پالیسی کی یہ حالت ہو چکی ہے اپنے ہی سرمایہ دار آج بنگلا دیش میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں مگر وزیر تجارت، خزانہ اور وزیر اعظم خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ 
ہوائی جہاز میں یہ سب کچھ سوچتا ہوا ڈھاکا ایرپورٹ پر لینڈ کر گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں موجود تھے ۔ 
بار بار دل میں خیال آرہا تھا میرپور کی ان گلیوں میں چلنا چاہیے جہاں میں نے اپنا بچپن اور جوانی گزارا تھا ۔ جہاں میرے والد ، والدہ اور پانچ بھائیوں کو صرف اس لیے شہید کر دیا گیا کہ انہوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا اور پاک فوج کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہوئے ۔
میں قدرتی طور سے بچ گیا اور جنگی قیدی بن کر مغربی پاکستان آگیا ۔ مجھے اپنے گھر والوں کی شہادت کی خبر اس وقت ملی جب میں جنگی قیدی تھا ۔ 
ہوا ٹھنڈی چل رہی تھی شام کا وقت تھا میں سب سے پہلے اپنے مکان کی طرف گیا وہاں چھوٹے چھوٹے بچے باہر لان میں کھیل رہے تھے ۔ میرے ذہن میں وہ خوبصورت دیں یاد آرہے تھے جو کبھی میں نے یہاں اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارے تھے ۔
میری آنکھوں میں آنسو تھے چہرے پر اداسی چھائی تھی ۔ چند لمحوں کے بعد میں زور زور سے رونے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے پڑوسی امین الحق صاحب کی گاڑی آ کر رکی جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے میں انکو پہچان گیا ۔ میں نے امین چاچا کی آواز لگائی میں دوڑتا ہوا انکے قریب پہنچ گیا ۔
میں بنگالی زبان میں بات کرنے لگا تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد مجھے پہچان گئے اور گلے لگ کر رونے لگے ۔
حیران تھے مجھے زندہ دیکھ کر کہنے لگے میں تمہیں اپنے گھر نہیں لے جاسکتا مجھ پر بھی الزام ہے میں نے تمھارے گھر والوں کو بچانے کی کوشش کی تھی یعنی میں نے بھی بنگلادیش سے غداری کی ہے ۔ 
میں نے کوئی غداری نہیں کی مسلمان کو مکتی باہنی سے بچانے کی کوشش کی ۔
جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پھر سے گڑے مردے اکھاڑنے شروع کر دیے ہیں ۔ میں نے انکو تسلی دی ۔ امین چاچا فرمانے لگے پہلے اور اب میں فرق صرف اتنا ہے پہلے احکامات پنڈی سے آتے تھے آج دہلی سے آتے ہیں ۔
میں وہاں سےان کیمپوں کی طرف چل پڑا جہاں آج بھی پاکستانی کسمپرسی کی حالت میں پاکستان کا جھنڈا ہاتھوں میں اٹھائے اس آس میں زندگی گزار رہے ہیں کہ شاید پاکستانی بھائیوں اور حکومت کو انکا خیال آجائے اور اس جہنم سے ہمیں نکال کر لے جائیں ۔ ایک ضعیف سے بزرگ نے سوال کیا اگر تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ملک میں رکھ سکتے ہوں مگر ڈھائی لاکھ پاکستانیوں کے لیے جگہ نہیں یے ۔ میرے پاس انکے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ رات کی تاریکی پھیلنا شروع ہو چکی تھی ہوا میں سردی کی شدت آگئی تھی میں نے کوٹ پہن لیا اور واپس ہوٹل کی جانب ابھی چلنا شروع ہی کیا تھا میری نظر بوڑھی عورت پر پڑی جسکی گود میں دو بچیاں سردی سے سمٹی بیٹھی تھیں۔ میں نے کوٹ اتار کر ان بچیوں پر ڈال دیا۔ بوڑھی عورت نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہاں اب آئے ہو اس وقت کہاں تھے جب ایک ہفتہ قبل بنگلادیشی حکومت کی ایما پر جھگیوں میں آگ لگائی گئی اور دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ حادثاتی طور پر آگ لگی ہے۔ ان بچیوں کے والدین آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے ۔ بیٹا ہمارے اس حال کے ذمہ دار پوری پاکستانی قوم ہے۔ میں قیامت کا انتظار کر رہی ہوں میرا ایمان ہے ضرور انصاف ملے گا ۔ 
میں دل ہی دل میں خود کو مجرم تصور کرنے لگا ۔
بوڑھی عورت نے کہا بیٹا کیا ہمارا جرم یہی ہے اسلام کے نام پر ہجرت کی اور پاکستان ذندہ باد کا نعرہ لگایا ۔ ہم کل بھی پاکستانی تھے اور آج بھی ہیں اور کتنا امتحان لوگے بس کر دو بس کر دو۔ ایسا نہ ہو ڈھائی لاکھ پاکستانی مسلمانوں کی آہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کو ادا کرنی پڑے۔
جناب میں نے ساری کہانی آپکے سامنے بیان کر دی ہے اسکو لکھیں شاید ایوانوں میں بیٹھے پاکستانی مسلمانوں کو ہمارے پاکستانی بھائیوں کا خیال آجائے جو اس وقت کیمپوں میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں 

تبصرے