ترکی میں ہزاروں افراد کا احتجاج

 ریپ سے متعلق قانون پر ہزاروں افراد کا احتجاج









ترکی میں ہزاروں افراد اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کم سن لڑکی کا ریپ کرنے والا شخص اس لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو وہ سزا سے بچ جائے گا
حکومت کا اصرار ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد بچوں کی شادی سے متعلق جاری روایت سے نمٹنا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کے ریپ کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔
استنبول میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کے دوران تالیاں بجاتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔‘
ازمیر اور تربزن سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے ،
اس قانون کے تحت اس شخص کو رہا کر دیا جائے گا جو کسی کم سن لڑکی کو بنا کسی جبر  دھمکی کے ریپ کرتا ہے تاہم وہ بعد ازاں اس سے شادی کر لیتا ہے،
استنبول میں قریباً تین 4 افراد نے مظاہرہ کیا ہیں 
بعض بینرز پر درج تھا  ریپ کو قانونی شکل نہیں دی جا سکتی،  اور یہ کہ  اے کے پی میرے جسم سے ہاتھ ہٹاؤ اے کے پی صدر طیب اردوغان کی جماعت ہے جس نے یہ بل پیش کیا ہیں 
مظاہرہ میں شریک ایک خاتون نے بات کرتے ہوئے کہا کہ  ایک ریپ کی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی،
 بچے سے یہ پوچھنے کا کیا مطلب ہے کہ کیا یہ ٹھیک ہوگا  جب تک وہ 18 برس کا نہ ہوجائے، بچہ بچہ ہوتا ہے اس لیے اس کی مذمت کی جانی چاہیے، ہم یہاں اس لیے آئے ہیں تاکہ یہ قانون منظور نہ کیا جا سکے،
ایک شخص کا کہنا تھا  کیونکہ میرے بھی بچے ہیں  کیونکہ میں ایک ایسے ملک میں رہنا چاہتا ہوں جہاں ہم جی سکتے ہیں،
دوسری خاتون کا کہنا تھا میں ایک ماں ہوں ، مجھے اس پر کیسا ردِ عمل دینا چاہیے  مجھے یقین نہیں آتا  یہ سب صحیح نہیں ہے، یہ سمجھ سے باہر ہیں 
میں نے آج صبح یہ خبر ٹی وی پر دیکھی ہے اور اس کے بعد سے میں 50 بار اپنی بیٹی سے اس کے بارے میں پوچھ چکی ہوں
وزیر انصاف بیکر بوزداگ نے نیٹو کے اجلاس میں کہا تھا کہ اس بل کے تحت ریپ کرنے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی،
ترکی کے وزیرِ اعظم نے اے کی پی کے ارکان سے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف کے ساتھ اس بل کے حوالے سے مذاکرات کریں،
جمعرات کو اس بل پر پارلیمان نے اولین منظوری دے دی ہے جبکہ آئندہ منگل کو اس کے حوالے سے دوسری بحث کی جائے گی
اقوامِ متحدہ میں بچوں کے ادارے نے اس بل پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے،
ادارے کے ترجمان کرسٹوف بولیریس کا کہنا ہیں کہ  بچوں کے خلاف ایسے قابلِ نفرت تشدد جو جرم بھی ہیں انھیں ہر لحاظ سے قابلِ سزا ہونا چا ھے

تبصرے